کیا ڈیزائن پیٹنٹ کے نقصانات پورے پروڈکٹ کے منافع پر لگتے ہیں یا صرف اس کے حصے پر؟

Photo of author

By Jehangir Badar

سام سنگ بمقابلہ ایپل: سپریم کورٹ نے ڈیزائن پیٹنٹ کے نقصانات کی تشریح کی اور فیصلہ دیا کہ “آرٹیکل آف مینوفیکچر” پورا پروڈکٹ یا اس کا جزو ہو سکتا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ پیٹنٹ قانون کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

✍️. مقدمے کے حالات

سن 2007 میں جب ایپل نے اپنا پہلا آئی فون متعارف کرایا، دنیا نے ایک نئے دور کا آغاز دیکھا۔ اس کی چمکتی ہوئی سیاہ اسکرین، گول کونوں والی ڈیزائن، اور رنگین آئیکونز نے صارفین کے دل جیت لیے۔ ایپل نے اس منفرد ڈیزائن کو محفوظ کرنے کے لیے کئی ڈیزائن پیٹنٹ حاصل کیے، جن میں آئی فون کا سامنے والا حصہ، اس کا فریم، اور اسکرین پر آئیکونز کی ترتیب شامل تھی۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

جلد ہی، سام سنگ نے بھی اپنے اسمارٹ فونز کی ایک سیریز متعارف کرائی، جو بظاہر ایپل کے آئی فون سے ملتی جلتی تھی۔ ایپل کے لیے یہ ایک چیلنج تھا۔ کیا سام سنگ نے ان کے پیٹنٹس کی خلاف ورزی کی؟ ایپل نے 2011 میں سام سنگ پر مقدمہ دائر کیا، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ سام سنگ کے کئی اسمارٹ فونز نے ایپل کے ڈیزائن پیٹنٹس کی نقالی کی۔ ایپل نے دعویٰ کیا کہ سام سنگ کو ان فونز سے حاصل ہونے والا پورا منافع ادا کرنا چاہیے۔ سام سنگ نے اسے مسترد کیا، یہ کہتے ہوئے کہ نقصانات صرف اس ڈیزائن والے حصے (جیسے اسکرین یا کیس) کے منافع تک محدود ہونے چاہئیں، نہ کہ پورے فون کے۔

یہ تنازع صرف دو ٹیک کمپنیوں کے درمیان لڑائی نہیں تھا؛ یہ ایک قانونی سوال تھا جو پیٹنٹ قانون کی بنیادی تشریح کو چیلنج کر رہا تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کہانی عدالتوں میں کیسے آگے بڑھی۔

✍️ . قانونی کارروائی (عدالتی سفر)

ٹرائل کورٹ کا فیصلہ:
کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جیوری نے فیصلہ دیا کہ سام سنگ کے کئی اسمارٹ فونز نے ایپل کے تین ڈیزائن پیٹنٹس (D593,087، D618,677، اور D604,305) کی خلاف ورزی کی۔ ایپل کو $399 ملین ڈالر کے نقصانات سے نوازا گیا، جو کہ سام سنگ کے متاثرہ فونز سے حاصل ہونے والا پورا منافع تھا۔ سام سنگ نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ نقصانات صرف اس ڈیزائن والے حصے تک محدود ہونے چاہئیں، نہ کہ پورے فون کے منافع تک۔

فیڈرل سرکٹ کورٹ کا ردعمل:
سام سنگ نے فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں اپیل کی۔ سام سنگ نے دلیل دی کہ 35 U.S.C. §289 کے تحت “آرٹیکل آف مینوفیکچر” پورے فون کے بجائے صرف اس حصے (جیسے اسکرین یا کیس) کو کہا جا سکتا ہے جس پر پیٹنٹ شدہ ڈیزائن لگایا گیا تھا۔ فیڈرل سرکٹ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ سام سنگ کے فونز کے اندرونی حصے (جیسے پروسیسر یا بیٹری) صارفین کو الگ سے فروخت نہیں کیے جاتے، اس لیے پورا فون ہی “آرٹیکل آف مینوفیکچر” ہے۔ لہٰذا، ایپل کو پورے فون کے منافع کے برابر نقصانات ملنے چاہئیں۔

سپریم کورٹ میں دلائل:
سام سنگ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ سام سنگ کے وکلاء نے زور دیا کہ §289 کی تشریح میں “آرٹیکل آف مینوفیکچر” کو ایک جزو (مثلاً اسکرین یا فریم) بھی سمجھا جا سکتا ہے، نہ کہ ہمیشہ پورا پروڈکٹ۔ انہوں نے کہا کہ پورے فون کے منافع دینا غیر منصفانہ ہے، کیونکہ ڈیزائن صرف فون کے بیرونی حصے سے متعلق ہے، نہ کہ اس کے اندرونی ٹیکنالوجی سے۔ ایپل کے وکلاء نے اس کے برعکس دلیل دی کہ صارفین پورا فون خریدتے ہیں، اور ڈیزائن اس کی فروخت کی بنیادی وجہ ہے، لہٰذا پورے منافع کا دعویٰ جائز ہے۔

سپریم کورٹ نے اس سوال کو اٹھایا: کیا “آرٹیکل آف مینوفیکچر” ہمیشہ صارف کو فروخت ہونے والا مکمل پروڈکٹ ہوتا ہے، یا یہ اس کا کوئی جزو بھی ہو سکتا ہے؟

✍️ . سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اس کی وجوہات

سپریم کورٹ نے بالاتفاق فیصلہ دیا کہ فیڈرل سرکٹ کی تشریح بہت تنگ تھی۔ عدالت نے کہا کہ 35 U.S.C. §289 میں استعمال ہونے والا لفظ “آرٹیکل آف مینوفیکچر” کافی وسیع ہے اور اس میں نہ صرف صارف کو فروخت ہونے والا مکمل پروڈکٹ (جیسے اسمارٹ فون) بلکہ اس کا کوئی جزو (جیسے اسکرین یا کیس) بھی شامل ہو سکتا ہے، چاہے وہ جزو الگ سے فروخت ہو یا نہ ہو۔

عدالت کی وجوہات:

  1. لفظ کی تشریح: عدالت نے “آرٹیکل آف مینوفیکچر” کی تعریف تاریخی اور قانونی تناظر میں دیکھی۔ لفظ “آرٹیکل” کا مطلب ہے “کوئی خاص چیز”، اور “مینوفیکچر” کا مطلب ہے “ہاتھ یا مشین سے بنائی گئی چیز”۔ اس تعریف کے تحت، ایک جزو بھی “آرٹیکل آف مینوفیکچر” ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بھی ایک بنائی گئی چیز ہے۔
  2. پیٹنٹ قانون کے دیگر حصوں سے مطابقت: عدالت نے نوٹ کیا کہ 35 U.S.C. §171 (جو ڈیزائن پیٹنٹس کی اہلیت سے متعلق ہے) اور §101 (جو یوٹیلیٹی پیٹنٹس سے متعلق ہے) میں بھی “آرٹیکل آف مینوفیکچر” کو وسیع معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، پیٹنٹ آفس نے ماضی میں ایک مشین کے انفرادی حصوں کے لیے بھی ڈیزائن پیٹنٹس جاری کیے ہیں (جیسے Ex parte Adams, 1898)۔
  3. فیڈرل سرکٹ کی غلطی: فیڈرل سرکٹ نے یہ مانا کہ چونکہ فون کے اندرونی حصے الگ سے فروخت نہیں ہوتے، اس لیے پورا فون ہی “آرٹیکل آف مینوفیکچر” ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا، یہ کہتے ہوئے کہ قانون میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ جزو الگ سے فروخت ہو۔

عدالت نے یہ واضح کیا کہ §289 کے تحت نقصانات کا حساب لگانے کے دو مراحل ہیں: پہلا، یہ شناخت کرنا کہ متاثرہ ڈیزائن کس “آرٹیکل آف مینوفیکچر” پر لگایا گیا ہے؛ دوسرا، اس آرٹیکل سے حاصل ہونے والے کل منافع کا حساب لگانا۔ تاہم، عدالت نے اس کیس میں یہ فیصلہ نہیں کیا کہ متعلقہ “آرٹیکل آف مینوفیکچر” پورا فون ہے یا اس کا کوئی جزو (جیسے اسکرین)۔ اس کے بجائے، عدالت نے کیس کو فیڈرل سرکٹ کو واپس بھیجا تاکہ وہ اس سوال پر مزید غور کرے۔

✍️ 6. سبق اور نتیجہ

سام سنگ بمقابلہ ایپل کا یہ فیصلہ پیٹنٹ قانون کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:

  1. قانون کی لچک: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پیٹنٹ قانون کو جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں لچکدار طریقے سے دیکھنا چاہیے۔ اسمارٹ فون جیسے پیچیدہ پروڈکٹس میں، جہاں متعدد اجزا شامل ہوتے ہیں، نقصانات کا حساب لگانا ایک مشکل کام ہے۔ عدالت نے اسے زیادہ منصفانہ بنانے کی راہ ہموار کی۔
  2. صنعتوں کے لیے پیغام: ٹیک کمپنیوں کے لیے یہ فیصلہ ایک وارننگ ہے کہ وہ دوسروں کے ڈیزائن پیٹنٹس کی احتیاط سے پابندی کریں۔ ساتھ ہی، یہ پیٹنٹ ہولڈرز کو زیادہ معقول نقصانات مانگنے کی ترغیب دیتا ہے، جو پورے پروڈکٹ کے بجائے صرف متعلقہ جزو سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
  3. عام آدمی کے لیے سبق: یہ مقدمہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قانون ہر ایک کے لیے مساوی انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے وہ ایک بڑی کمپنی ہو یا عام شہری۔ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عدالتوں کا کام صرف سزا دینا نہیں، بلکہ قانون کی صحیح تشریح کرنا ہے تاکہ انصاف کی جڑیں مضبوط ہوں۔

یہ فیصلہ نہ صرف قانونی ماہرین کے لیے بلکہ ہر اس شخص کے لیے اہم ہے جو ٹیکنالوجی اور جدت کے دور میں رہتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ چھوٹے سے ڈیزائن کی بھی اپنی قیمت ہوتی ہے، اور قانون اس کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔

Read More

Can an Insurance Company Deny a Claim Based on Alleged Fraud Without Solid Proof?

https://verdicttales.com/2025/08/08/can-an-insurance-company-deny-a-claim-based-on-alleged-fraud-without-solid-proof/

Spread your thought

Leave a Comment