یہ بلاگ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک اہم عدالتی فیصلے (C.A.No.47-K/2021) کا جائزہ لیتا ہے، جس میں کرایہ دار پروین آراء نے مالک مکان محمد حنیف کے خلاف بحالی قبضہ کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے سندھ رینٹڈ پریمیسز آرڈیننس 1979 کے تحت فیصلہ سنایا، جو کرایہ داروں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔
**مقدمے کے حالات: ایک کرایہ دار کی جدوجہد کی کہانی**
کراچی کے قلب، صدر کے علاقے میں واقع کرشنا مینشن ایک پرانی عمارت ہے، جہاں پروین آراء اپنے خاندان کے ساتھ فلیٹ نمبر 4 میں برسوں سے کرایہ دار تھیں۔ یہ 2005 کی بات ہے جب مالک مکان محمد حنیف نے سندھ رینٹڈ پریمیسز آرڈیننس 1979 (SRPO) کے سیکشن 15 کے تحت فلیٹ خالی کرانے کی درخواست دائر کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں اپنے خاندان کے لیے فلیٹ کی “ذاتی ضرورت” ہے۔ محمد حنیف نے عدالت کو بتایا کہ ان کے سات بیوی بچوں کا خاندان ہے، جن میں چار بالغ بیٹوں میں سے ایک کی شادی ہو چکی ہے، اور دیگر دو بیٹوں کی شادی کے لیے مناسب رہائش کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی اور جائیداد نہیں، اس لیے یہ فلیٹ ان کے لیے ناگزیر ہے۔
پروین آراء کے لیے یہ دعویٰ سن کر دل ٹوٹ گیا۔ برسوں سے اس فلیٹ میں رہنے والی پروین کے لیے یہ صرف ایک مکان نہیں، بلکہ ان کی یادیں اور زندگی کا ایک حصہ تھا۔ لیکن عدالت نے محمد حنیف کے دعوے کو درست مانتے ہوئے فلیٹ خالی کرانے کا حکم دیا۔ 26 نومبر 2012 کو پروین کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا، اور فلیٹ کا قبضہ محمد حنیف کو دے دیا گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کچھ عرصے بعد پروین کو پتہ چلا کہ محمد حنیف نے فلیٹ کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے استعمال ہی نہیں کیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے فلیٹ اپنے ملازم شہزاد اور اس کی بیوی زاہدہ کو دے دیا۔ پروین کے لیے یہ صدمہ تھا۔ کیا یہ وہی “ذاتی ضرورت” تھی جس کے لیے انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا؟ غصے اور انصاف کی امید کے ساتھ، پروین نے سندھ رینٹڈ پریمیسز آرڈیننس کے سیکشن 15-A کے تحت فلیٹ کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی۔
**قانونی کارروائی: ایک لمبا سفر**
**1. رینٹ کنٹرولر کا فیصلہ**
پروین کی درخواست پر رینٹ کنٹرولر نے سماعت کی۔ پروین نے ثبوت پیش کیے کہ محمد حنیف نے فلیٹ کو ذاتی استعمال کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ملازم کو دیا۔ رینٹ کنٹرولر نے 8 دسمبر 2017 کو فیصلہ سنایا کہ محمد حنیف نے سیکشن 15-A کی خلاف ورزی کی، کیونکہ انہوں نے فلیٹ کو ذاتی ضرورت کے بجائے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ فلیٹ کا قبضہ 30 دن کے اندر پروین کو واپس کیا جائے۔
**2. اپیل اور ہائی کورٹ کا ردعمل**
محمد حنیف نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ IX ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، کراچی ساؤتھ نے 21 اپریل 2018 کو رینٹ کنٹرولر کے فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ جج نے کہا کہ پروین یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ فلیٹ کو “دوبارہ کرایہ پر دیا گیا“۔ مزید یہ کہ فلیٹ کی حالت خراب تھی، اور اسے مرمت کی ضرورت تھی، اس لیے محمد حنیف نے اسے عارضی طور پر اپنے ملازم کو دیا۔ پروین نے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، لیکن 7 اپریل 2021 کو ہائی کورٹ نے بھی اسے مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ فلیٹ کو دوبارہ کرایہ پر نہیں دیا گیا تھا۔
**3. سپریم کورٹ میں اپیل**
پروین نے ہمت نہیں ہاری اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 21 اکتوبر 2021 کو سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپیل کی اجازت دی، کیونکہ یہ ایک اہم قانونی سوال اٹھاتا تھا: کیا کرایہ دار کو دوبارہ قبضہ مل سکتا ہے اگر مالک مکان جھوٹے ذاتی استعمال کے دعوے پر عمارت خالی کرائے؟ وکلاء نے دلائل دیے کہ سیکشن 15-A کے دو اہم پہلو ہیں:
• فلیٹ کو دوبارہ کرایہ پر دینے سے روکنا۔
• فلیٹ کو ذاتی استعمال کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کرنا۔
محمد حنیف کے وکیل نے کہا کہ فلیٹ کی حالت خراب تھی، اور اسے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے خطرناک قرار دیا تھا۔ لیکن پروین نے ثابت کیا کہ محمد حنیف نے کوئی مرمت نہیں کی، اور فلیٹ تین سال تک ان کے ملازم کے قبضے میں رہا۔
**عدالت کا فیصلہ اور وجوہات**
7 مارچ 2025 کو سپریم کورٹ نے پروین کے حق میں فیصلہ سنایا، اور ہائی کورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے رینٹ کنٹرولر کے 8 دسمبر 2017 کے فیصلے کو بحال کیا، جس میں پروین کو فلیٹ کا قبضہ واپس دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ فیصلے کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1. **سیکشن 15-A کی تشریح**: عدالت نے کہا کہ سیکشن 15-A کے دو پہلو ہیں۔ پہلا، مالک مکان فلیٹ کو دوبارہ کرایہ پر نہیں دے سکتا۔ دوسرا، فلیٹ کو ذاتی استعمال کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ محمد حنیف نے فلیٹ اپنے ملازم کو دے کر دوسری شرط کی خلاف ورزی کی۔
2. **ذاتی استعمال کی تعریف**: SRPO کے سیکشن 2(g) کے مطابق، “ذاتی استعمال” سے مراد مالک مکان یا اس کے قریبی خاندان (بیوی، بچوں) کا استعمال ہے۔ ملازم کا قبضہ ذاتی استعمال کے زمرے میں نہیں آتا۔
3. **ایک سال کی حد**: عدالت نے واضح کیا کہ “ایک سال کے اندر” سے مراد وہ مدت ہے جس میں مالک مکان کو فلیٹ ذاتی استعمال کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر مرمت کی ضرورت تھی، تو ایک سال کافی تھا، لیکن محمد حنیف نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ مرمت کی کوشش کی گئی۔
4. **وقت کی پابندی (Laches)**: محمد حنیف کے وکیل نے کہا کہ پروین نے بحالی کی درخواست ایک سال سے زائد عرصے بعد دائر کی، جو کہ تاخیر ہے۔ لیکن عدالت نے پایا کہ پروین نے بروقت کوشش کی، لیکن رینٹ کنٹرولرز نے اس کی درخواست قبول نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ ڈسٹرکٹ جج سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئی۔
5. **ایمانداری (Good Faith)**: عدالت نے کہا کہ مالک مکان کو “ایمانداری” سے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے فلیٹ کی واقعی ضرورت ہے۔ محمد حنیف نے جھوٹا دعویٰ کیا، جو کہ بدنیتی پر مبنی تھا۔
**سبق اور نتیجہ**
یہ عدالتی فیصلہ پاکستانی قانون میں کرایہ داروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ اس سے چند اہم اسباق ملتے ہیں:
1. **کرایہ داروں کے حقوق کی حفاظت**: یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی قانون کرایہ داروں کے حقوق کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر مالک مکان جھوٹے دعووں سے فلیٹ خالی کراتا ہے، تو کرایہ دار عدالت سے انصاف مانگ سکتا ہے۔
2. **مالک مکان کی ذمہ داری**: مالک مکان کو اپنے دعووں میں ایماندار ہونا چاہیے۔ اگر وہ ذاتی ضرورت کے بہانے فلیٹ خالی کراتا ہے اور پھر اسے دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، تو اسے جرمانہ اور بحالی قبضہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
3. **عدالتی نظام کی اہمیت**: یہ کیس بتاتا ہے کہ سپریم کورٹ نچلی عدالتوں کے غلط فیصلوں کو درست کر سکتی ہے۔ ہائی کورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے سیکشن 15-A کی غلط تشریح کی، لیکن سپریم کورٹ نے قانون کی روح کو برقرار رکھا۔
4. **عام پاکستانی کے لیے پیغام**: اگر آپ کرایہ دار ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، تو ہمت نہ ہاریں۔ پاکستانی قانون آپ کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اور آپ عدالت سے انصاف مانگ سکتے ہیں۔
یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس نے اپنے گھر کے لیے لڑائی لڑی اور جیت گئی۔ پروین آراء کی جدوجہد ہر اس پاکستانی کے لیے ایک مثال ہے جو انصاف کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کرایہ داروں کے لیے، بلکہ عدالتی نظام کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔
**ڈس کلیمر**
یہ بلاگ اصل عدالتی فیصلے کا ترجمہ یا خلاصہ ہے، جس میں غلطیوں کا امکان ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قانونی حوالے کے لیے اصل فیصلہ پڑھیں۔
